<bgsound loop='infinite' src='music.mp3'></bgsound> What Is Islam...?

Saturday, 1 October 2022

ہدایہ اخرین میں مذکور مسائل بہار شریعت میں

خیار قبول

مسئلہ۲۱:  دونوں  میں   سے کوئی بھی اُس مجلس سے اُٹھ جائے یا بیع کے علاوہ کسی اور بات میں   مشغول ہو جائے تو ایجاب باطل ہو جاتا ہے۔ قبول کرنے سے پہلے موجب (3)کو اختیار ہے کہ ایجاب کو واپس کرلے قبول کے بعد واپس نہیں  لے سکتا کہ دوسرے کا حق متعلق ہوچکا واپس لینے میں   اُس کا ابطال(4) ہوتا ہے۔(5) (ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ۲۴:  جب ایجاب وقبول دونوں  ہوچکے تو بیع تمام ولازم ہوگئی اب کسی کو دوسرے کی  رضا مندی کے بغیر رَد کردینے کا اختیارنہ رہا البتہ اگر مبیع میں   عیب ہو یا مبیع کو مشتری نے نہیں  دیکھا ہے تو خیار عیب وخیار رویت حاصل ہوتا ہے ان کا ذکر بعد میں   آئے گا۔ (1)(ہدایہ)

بیع تعاطی

مسئلہ۲۵:  بیع تعاطی جو بغیر لفظی ایجاب و قبول کے محض چیز لے لینے اور دیدینے سے ہو جاتی ہے یہ صرف معمولی اشیا ساگ ترکاری وغیرہ کے ساتھ خاص نہیں  بلکہ یہ بیع ہر قسم کی  چیزنفیس و خسیس(2) سب میں   ہوسکتی ہے اور جس طرح ایجاب و قبول سے بیع لازم ہو جاتی ہے یہاں  بھی ثمن دیدینے او ر چیز لے لینے کے بعد بیع لازم ہو جائے گی کہ بغیر دوسرے کی  رضا مندی کے ردکرنے کا کسی کو حق نہیں  ۔(3) (ہدایہ وغیرہ)

مبیع و ثمن
مسئلہ۳۴:  مبیع اگر منقولات(9) کی  قسم سے ہے تو بائع کا اُس پر قبضہ ہونا ضرور ہے قبل قبضہ کے چیز بیچ دی بیع ناجائزہے۔(10)(ہدایہ وغیرہ)

(ثمن کا حال ومؤجل ہونا)

مسئلہ۳۹:  عقد بیع میں   ثمن ادا کرنے کی  کوئی میعاد مذکور نہ تھی یعنی بیع حال تھی بعد عقد بائع نے مشتری کو ادائے ثمن کے لیے ایک میعاد معلوم مقرر کردی مثلاً پندرہ دن یا ایک مہینہ یا ایسی میعاد مقرر کی  جس میں   تھوڑی سی جہالت ہے مثلاً جب کھیت کٹے گا اُس وقت ثمن ادا کرنا تو اب ثمن مؤجل ہوگیا کہ جب تک میعاد پوری نہ ہو بائع کو ثمن کے مطالبہ کا حق نہیں  اور اگر ایسی میعادمقرر کی  ہوجس میں   بہت زیادہ جہالت ہو(1) مثلاً جب آندھی چلے گی اُس وقت ثمن ادا کرنا تو یہ میعاد باطل ہے ثمن اب بھی غیر میعادی ہے۔(2)(درمختار، ہدایہ)

(مختلف قسم کے سکّے چلتے ہوں  اس کی  صورتیں  

مسئلہ۴۲:  کسی جگہ مختلف قسم کے روپے چلتے ہوں  اور عاقِد(6)نے مطلق روپیہ کہا تووہ روپیہ مراد لیا جائے گا جو بیشتر اس شہر میں   چلتا ہے یعنی جس کا رواج زیادہ ہے چاہے اُن سکّوں  کی  مالیت مختلف ہویا ایک ہو اور اگر ایک ہی قسم کا روپیہ چلتا ہے جب تو ظاہر ہے کہ وہی متعین ہے اور اگر چلَن یکساں  ہے کسی کاکم اور کسی کا زیادہ نہیں  اورمالیت برابر ہو تو بیع صحیح ہے اورمشتری کو اختیار ہے کہ جو چاہے دیدے مثلاً ایک روپیہ کی  کوئی چیز خریدی تو ایک روپیہ یا دو اٹھنیاں  یا چار چونیاں  یا آٹھ دوانیاں  جو چاہے دیدے اور مالیت میں   اختلاف ہے جیسے حیدرآبادی روپے اور چہرہ دار کہ دونوں  کی  مالیت میں   اختلاف رہتا ہے اگر کسی جگہ دونوں  کا یکساں  چلن ہو تو بیع فاسد ہوجائیگی۔ (1)(درمختار، ہدایہ، فتح)

(ماپ اور تول اور تخمینہ سے بیع)

مسئلہ۴۴:  گیہوں  اورجو اور ہرقسم کے غلہ کی  بیع تول سے بھی ہوسکتی ہے اورماپ کے ساتھ بھی مثلاً ایک روپیہ کا اتنے صاع اور اٹکل اور تخمینہ(4)سے بھی خریدے جاسکتے ہیں  مثلاً یہ ڈھیر ی ایک روپیہ کو اگر چہ یہ معلوم نہیں  کہ اس ڈھیری میں  کتنے سیر ہیں  مگر تخمینہ سے اُسی وقت خریدے جاسکتے ہیں  جبکہ غیر جنس کے ساتھ بیع ہو مثلاً روپیہ سے یا گیہوں  کو جوسے یاکسی اور دوسرے غلہ سے اور اگر اُسی جنس سے بیع کریں  مثلاً گیہوں  کو گیہوں  سے خریدیں  تو تخمینہ سے بیع نہیں  ہوسکتی کیونکہ اگر کم وبیش ہوئے تو سود ہوگا۔(5) (ہدایہ)

مسئلہ۴۷:  ایک برتن ہے جس کی  مقدار معلوم نہیں  کہ اس میں   کتنا غلہ آتاہے یا پتھر ہے معلوم نہیں  کہ اس کا وزن کیاہے ان کے ساتھ بیع کرنا جائز ہے مثلاً اس برتن سے چار برتن گیہوں  (1)ایک روپیہ میں   یا اس پتھر سے فلاں  چیز ایک روپیہ کی  اتنی مرتبہ تولی جائے گی مگر شرط یہ ہے کہ ناپ تول میں   زیادہ زمانہ گزرنے نہ دیں  کیونکہ زیادہ زمانہ گزرنے میں   ممکن ہے کہ برتن جاتا رہے پتھر گم جائے پھر کس چیز سے ناپیں  تولیں  گے اور یہ برتن سمٹنے اور پھیلنے والا نہ ہو، لکڑی یا لوہے یا پتھر کا ہو اور اگر سمٹنے پھیلنے والا ہو تو بیع جائز نہیں  جیسے زنبیل۔(2) البتہ پانی کی  مَشک اگرچہ سمٹنے پھیلنے والی چیز ہے مگر عرف و تعامل اس کی  بیع پر جاری ہے، یہ بیع جائز ہے۔(3) (ہدایہ، درمختار، فتح القدیر)

مسئلہ۴۸:غلہ کی  ایک ڈھیری اس طرح بیع کی  کہ اس میں   کا ہر ایک صاع ایک روپیہ کوتو صرف ایک صاع کی  بیع درست ہوگی اور اس میں   بھی مشتری کو اختیار ہوگا کہ لے یانہ لے ہاں  اگر اُسی مجلس میں   وہ ساری ڈھیری ناپ دی یا بائع نے ظاہر کردیا اور بتادیا کہ اس ڈھیری میں  اتنے صاع ہیں  تو پوری ڈھیری کی  بیع درست ہوجائے گی اوراگر عقد سے پہلے یا عقدمیں   صاع کی  تعداد بتادی ہے تو مشتری کو اختیار نہیں  اور بعد میں  ظاہر کی  ہے تو ہے۔ یہ قول امام اعظم رضی اللہ  تعا لٰی      عنہ کاہے اور صاحبین(4) کا قول یہ ہے کہ مجلس کے بعد بھی اگر صاع کی  تعداد معلوم ہوگئی بیع صحیح ہے اور اسی قول صاحبین پر آسانی کے لیے فتویٰ دیاجاتا ہے۔(5) (ہدایہ، فتح، درمختار)

مسئلہ۵۰:  غلہ کی  ڈھیری خریدی کہ مثلاًیہ سو۱۰۰   من ہے اور اس کی  قیمت سو روپیہ بعد میں   اُسے تولا اگر پوراسو۱۰۰   من ہے جب تو بالکل ٹھیک ہے اور اگر سومن سے زیادہ ہے تو جتنا زیادہ ہے بائع کاہے اور اگر سومن سے کم ہے تو مشتری(1)  کو اختیار ہے کہ جتنا کم ہے اُس کی  قیمت کم کرکے باقی لے لے یا کچھ نہ لے۔ یہی حکم ہر اُس چیز کا ہے جوماپ اورتول سے بکتی ہے۔ البتہ اگروہ اُس قسم کی  چیز ہو کہ اُس کے ٹکڑے کرنے میں   نقصان ہوتا ہواورجو وزن بتایاہے اُس سے زیادہ نکلی تو کل مشتری ہی کو ملے گی اور اس زیادتی کے مقابل میں   مشتری کو کچھ دینا نہیں  پڑے گاکہ وزن ایسی چیزوں  میں   وصف ہوتا ہے اور وصف کے مقابل میں  ثمن کا حصہ نہیں  ہوتا مثلاً ایک موتی یا یاقوت خریدا کہ یہ ایک ماشہ(2)ہے  اور نکلا ایک ماشہ سے کچھ زیادہ تو جو ثمن مقرر ہوا ہے وہ دے کرمشتری لے لے۔(3) (درمختار، ردالمحتار)

مسئلہ۵۱:  تھان خریدا کہ مثلاً یہ دس گز ہے اور اس کی  قیمت دس روپیہ ہے اگر یہ تھان اُس سے کم نکلا جتنا بائع نے بتایا ہے تومشتری کو اختیار ہے کہ پورے دام میں   لے یا بالکل نہ لے یہ نہیں  ہوسکتا کہ جتنا کم ہے اُس کی  قیمت کم کردی جائے اور اگر تھان اُس سے زیادہ نکلا جتنا بتایاہے تو یہ زیادتی بلاقیمت مشتری کی  ہے بائع کو کچھ اختیار نہیں  نہ وہ زیادتی لے سکتا ہے نہ اُس کی  قیمت لے سکتا ہے نہ بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ یوہیں  اگر زمین خریدی کہ یہ سو۱۰۰    گز ہے اور اس کی  قیمت سو۱۰۰  روپے ہے اورکم یا زیادہ نکلی توبیع صحیح ہے اور سو ۱۰۰ ہی روپے دینے ہونگے مگر کمی کی  صورت میں   مشتری کو اختیار حاصل ہے کہ لے یا چھوڑدے۔(4) (ہدایہ وغیرہ)

مسئلہ۵۲:  یہ کہہ کر تھان خریدا کہ دس گز کا ہے دس روپے میں   اور یہ کہدیا کہ فی گز ایک روپیہ اب نکلا کم تو جتناکم ہے اُس کی  قیمت کم کردے اور مشتری کو یہ اختیار ہے کہ نہ لے اور اگر زیادہ نکلا، مثلاً گیارہ یا بارہ گز ہے تو اس زیادہ کا روپیہ یہ دے ،یا بیع کو فسخ(5) کر دے۔ (6)(ہدایہ وغیرہ) یہ حکم اُس تھان کا ہے جو پورا ایک طرح کا نہیں  ہوتا جیسے چِکَن(7)، گلبدن(8) اور اگر ایک طرح کا ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بائع اُس زیادتی کو پھاڑ کردس     ۱۰ گز مشتری کو دیدے۔

مسئلہ۵۳:  کسی مکان یا حمام کے سوگز میں   سے دس گز خریدے تو بیع فاسد ہے اور اگر یوں  کہتا کہ سوسہام(9) میں  سے دس سہام خریدے تو بیع صحیح ہوتی اور پہلی صورت میں   اگر اُسی مجلس میں   وہ دس گز زمین معین کردی جائے کہ مثلاً یہ دس گز تو بیع صحیح ہو جائے گی۔ (1)(ہدایہ، درمختار)

مسئلہ۵۴:  کپڑے کی  ایک گٹھری خریدی اس شرط پر کہ اس میں   دس تھان ہیں  مگر نکلے نو تھان یا گیارہ، تو بیع فاسد ہوگئی کہ کمی کی  صورت میں  ثمن مجہول ہے اور زیادتی کی  صورت میں   مبیع مجہول ہے اور اگر ہرایک تھان کا ثمن بیان کردیا تھا تو کمی کی  صورت میں   بیع جائز ہوگی کہ نوتھان کی  قیمت دے کر لے لے مگر مشتری کو اختیار ہوگا کہ بیع کو فسخ کردے اور اگر گیارہ تھان نکلے تو بیع ناجائز ہے کہ مبیع مجہول ہے اُن میں   سے ایک تھان کونسا کم کیاجائیگا۔(2) (ہدایہ)

مسئلہ۵۶:  تھان خریدا کہ دس گز ہے فی گز ایک روپیہ اور وہ ساڑھے دس گز نکلا تو دس روپے میں   لینا پڑیگا اور ساڑھے نو گز نکلا تو مشتری کو اختیار ہے کہ نو روپے میں   لے یا نہ لے۔ (4)(ہدایہ)

مسئلہ۶۹: زمین بیع کی اور اُس میں کھیتی ہے تو زراعت بائع کی ہے البتہ اگر مشتری شرط کرلے یعنی مع زراعت کے لے تو مشتری کی ہے اسی طرح اگر درخت بیچا جس میں پھل مو جود ہیں تو یہ پھل بائع کے ہیں مگر جبکہ مشتری اپنے لیے شرط کرلے۔ یوہیں چمیلی(2)، گلاب، جوہی(3)وغیرہ کے درخت خریدے تو پھول بائع کے ہیں مگر جبکہ مشتری شرط کرلے۔(4) (ہدایہ، فتح القدیر)

مسئلہ۷۰: زراعت والی زمین یا پھل والا درخت خریدا تو بائع کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب تک چاہے زراعت رہنے دے یا پھل نہ توڑے بلکہ اُس سے کہا جائے گا کہ زراعت کاٹ لے اور پھل توڑلے اور زمین یا درخت مشتری کو سپرد کردے کیونکہ اب وہ مشتری کی مِلک ہے اور دوسرے کی مِلک کو مشغول رکھنے کا اسے حق نہیں ، البتہ اگر مشتری نے ثمن ادا نہ کیا ہو تو بائع پر تسلیمِ مبیع واجب نہیں ۔(5)(ہدایہ، درمختار)

(مبیع وثمن پر قبضہ کرنا)

مسئلہ ۸۹: روپیہ اشرفی پیسہ سے بیع ہوئی اور مبیع وہاں حاضر ہے اور ثمن فوراًدینا ہو اور مشتری کو خیار شرط نہ ہو تو مشتری کو پہلے ثمن ادا کرنا ہوگا اُس کے بعد مبیع پرقبضہ کرسکتا ہے یعنی بائع کو یہ حق ہوگا کہ ثمن وصول کرنے کے لیے مبیع کوروک لے اور اُس پر قبضہ نہ دلائے بلکہ جب تک پورا ثمن وصول نہ کیا ہو مبیع کو روک سکتا ہے او راگر مبیع غائب ہو تو بائع جب تک مبیع کو حاضرنہ کردے ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ اور اگر بیع میں دونوں جانب سامان ہوں مثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں خریدا یا دونوں طرف ثمن ہوں مثلاً روپیہ یا اشرفی سے سونا چاندی خریداتو دونوں کو اُسی مجلس میں ایک ساتھ ادا کرنا ہوگا۔ (9)(ہدایہ، درمختار)

مسئلہ ۹۵: غلّہ خریدا اور مشتری نے اپنی بوری بائع کودیدی اور کہہ دیا کہ اس میں ناپ یا تول کر بھر دے تو ایسا کردینے سے مشتری کا قبضہ ہوگیا بائع نے مشتری کے سامنے اُس میں بھرا ہو یا غیبت میں (6)دونوں صورتوں میں قبضہ ہوگیا اور اگر مشتری نے اپنی بوری نہیں دی بلکہ بائع سے کہا کہ تم اپنی بوری عاریت مجھے دو اور اُس میں ناپ یا تول کر بھر دو تو اگر مشتری کے سامنے بھر دیا قبضہ ہوگیا ورنہ نہیں ۔یوہیں تیل خریدا اور اپنی بوتل یا برتن دیکر کہا کہ اس میں تول دے اُس نے تول کر ڈال دیا قبضہ ہوگیا۔ یہی حکم ناپ اور تول کی ہر چیز کا ہے کہ مشتری کے برتن میں جب اس کے حکم سے رکھدی جائے گی قبضہ ہوجائے گا۔(7) (ہدایہ وغیرہ)